خبروں پر واپس جائیں
    بین الاقوامی

    پاکستان میں چاول کی برآمدات کے لیے 20 ارب روپے کا بڑا ریلیف پیکیج تیار

    Mustaqeem Farms & Tech Private Limited
    پاکستان میں چاول کی برآمدات کے لیے 20 ارب روپے کا بڑا ریلیف پیکیج تیار
    اس خبر کو شیئر کریں

    اسلام آباد – عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ برقرار رکھنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے چاول کے برآمدی شعبے کے لیے 20 ارب روپے کے بڑے مالیاتی امدادی پیکیج کی منظوری کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مقامی برآمد کنندگان کو علاقائی ممالک کی جانب سے ملنے والے سخت مسابقتی چیلنجز اور کم قیمتوں کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

    ٹیکسٹائل کے بعد چاول پاکستان کا دوسرا بڑا برآمدی شعبہ ہے جو ملک کے لیے زرمبادلہ کمانے، دیہی روزگار کی فراہمی اور زرعی معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، عالمی منڈی میں دیگر بڑے ممالک کی دوبارہ بڑے پیمانے پر واپسی اور ان کی جانب سے دی جانے والی بھاری سبسڈیز کی وجہ سے پاکستانی چاول کی برآمدات اور قیمتوں پر شدید دباؤ دیکھا جا رہا تھا۔

    ### امدادی پیکیج کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

    حالیہ مہینوں میں برآمد کنندگان کی جانب سے عالمی منڈی میں گرتی ہوئی مسابقت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا:

    قیمتوں کا بڑا فرق: عالمی منڈی میں جہاں حریف ممالک کا باسمتی چاول 850 سے 900 ڈالر فی میٹرک ٹن پر دستیاب ہے، وہیں پاکستانی باسمتی چاول کی قیمت 1,150 سے 1,275 ڈالر فی میٹرک ٹن کے آس پاس رہی ہے، جس سے خریداروں کا رجحان دوسری طرف منتقل ہو رہا تھا۔

    مقامی اخراجات میں اضافہ: ملک کے اندر دھان کی اونچی قیمتوں اور برآمدی فنانسنگ کی زیادہ لاگت نے تاجروں کے لیے عالمی سطح پر سستی قیمتیں برقرار رکھنا مشکل بنا دیا تھا۔

    پیکیج کی تفصیلات اور شفافیت

    یہ امدادی رقم ابتدائی طور پر ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کے ذریعے عارضی فنانسنگ کے طور پر فراہم کی جائے گی، جسے بعد میں وفاقی بجٹ کے باقاعدہ فنڈز سے پورا کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 4.1 ملین میٹرک ٹن چاول کا اضافی اسٹاک موجود ہے، جسے اگر مسابقتی رکاوٹیں دور کر کے فروخت کیا جائے تو ملک کو تقریباً 2 ارب ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

    اس ریلیف پیکیج کے غلط استعمال یا کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کو روکنے کے لیے وزارتِ تجارت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور پاکستان سنگل ونڈو (ڈیجیٹل کسٹمز سسٹم) کے اشتراک سے ایک انتہائی سخت اور شفاف ڈیجیٹل طریقہ کار وضع کر رہی ہے تاکہ یہ فنڈز براہِ راست اور صحیح طریقے سے انڈسٹری کی بہتری کے لیے استعمال ہوسکیں۔