خبروں پر واپس جائیں
    Corporate News

    کم بجلی، زیادہ بل؟ بجلی ٹیرف میں تبدیلی کے حکومتی منصوبے کا تفصیلی جائزہ

    Mustaqeem Farms & Tech Private Limited
    کم بجلی، زیادہ بل؟ بجلی ٹیرف میں تبدیلی کے حکومتی منصوبے کا تفصیلی جائزہ
    اس خبر کو شیئر کریں

    ملک میں بجلی کے بحران اور بڑھتے ہوئے سرکولر ڈیٹ (گردشی قرضے) کے پیشِ نظر، حکومت کی جانب سے بجلی کے ٹیرف ڈھانچے میں ایک بڑی اور بنیادی تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس نئے مجوزہ منصوبے کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی بھاری فکسڈ چارجز (مستقل فیس) عائد کیے جانے کا امکان ہے، جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

    اس مضمون میں ہم جائزہ لیں گے کہ یہ نیا نظام کیا ہے اور اس کے عام صارفین پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    فکسڈ چارجز کا نیا ماڈل کیا ہے؟

    موجودہ نظام میں صارفین کا بجلی کا بل زیادہ تر اس

    بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انہوں نے مہینے میں کتنے یونٹ استعمال کیے۔ لیکن نئے منصوبے کے تحت بلنگ کا طریقہ کار تبدیل کیا جا رہا ہے:

    لازمی فکسڈ فیس: بل میں استعمال شدہ یونٹس کی قیمت کے ساتھ ساتھ ایک بڑی رقم "فکسڈ چارجز" کی صورت میں شامل کی جائے گی۔

    کم صارفین پر اثر: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی صارف بہت کم بجلی استعمال کرتا ہے، یا گھر بند ہونے کی وجہ سے صفر یونٹ بھی استعمال کرتا ہے، تب بھی اسے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ایک مخصوص بنیادی رقم ہر حال میں ادا کرنی ہوگی۔

    مرحلہ وار نفاذ کی حکمتِ عملیابتدائی اطلاعات کے مطابق حکومت اس نظام کو یکمشت پورے ملک پر لاگو کرنے کے بجائے مرحلہ وار نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے:

    پہلا مرحلہ (صنعتی صارفین): سب سے پہلے اس نظام کا اطلاق بڑے صنعتی اور کمرشل صارفین پر کیا جائے گا تاکہ پاور کمپنیوں کی آمدنی کو مستحکم کیا جا سکے۔

    دوسرا مرحلہ (گھریلو صارفین): صنعتی مرحلے کے نتائج دیکھنے کے بعد، اس دائرہ کار کو عام گھریلو صارفین تک بڑھانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

    حکومت یہ تبدیلی کیوں کرنا چاہتی ہے؟

    کیپیسٹی پیمنٹس: حکومت کو پاور پلانٹس کو بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے پیسے دینے پڑتے ہیں، چاہے ملک میں وہ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو۔

    مستحکم آمدنی : فکسڈ چارجز سے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (DISCOs) کو ہر ماہ ایک طے شدہ آمدنی حاصل ہوگی جس سے ان کا خسارہ کم ہوگا۔

    سولر پینلز کا رجحان :بڑی تعداد میں لوگوں کے سولر پر شفٹ ہونے کی وجہ سے گرڈ کی بجلی کا استعمال کم ہوا ہے، جس سے حکومت کی یونٹ بیسڈ آمدنی میں کمی آئی ہے۔

    ماہرین کی رائے: فوائد اور نقصانات بجلی کے شعبے کے ماہرین اس مجوزہ پالیسی پر منقسم نظر آتے ہیں:

    حق میں دلائل: حامیوں کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ کڑوا گھونٹ بھرنا ضروری ہے، تاکہ گرڈ کو چلانے کے اخراجات سب صارفین میں برابر تقسیم ہوں۔

    مخالفت میں دلائل: ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ بجلی بچانے والے صارفین کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ وہ غریب اور سفید پوش طبقہ جو بل سے بچنے کے لیے شدید گرمی میں بھی کم سے کم بجلی استعمال کرتا ہے، اس پر یہ اضافی فکسڈ چارجز سراسر ظلم ہوں گے۔

    صارفین کے لیے حتمی نتیجہ

    اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے، تو "کم بجلی استعمال کرو اور کم بل پاؤ" کا اصول ختم ہو جائے گا۔ اگرچہ ابھی گھریلو صارفین کے لیے فکسڈ چارجز کی حتمی رقم کا تعین ہونا باقی ہے، لیکن صارفین کو آنے والے مہینوں میں نیپرا (NEPRA) کے فیصلوں پر نظر رکھنی ہوگی۔