لاہور (نیوز ڈیسک): صوبہ پنجاب میں زرعی انکم ٹیکس کی شرح بڑھانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ رٹ پٹیشن جوڈیشل ایکٹوازم پینل اور صوبائی اسمبلی کے رکن چودھری محمد اعجاز شفیع کی طرف سے مشترکہ طور پر دائر کی گئی ہے۔
اس قانونی چارہ جوئی میں حکومتِ پنجاب، سیکرٹری قانون اور بورڈ آف ریونیو کو مدعا علیہ (فریق) بنایا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے اپنے مؤقف میں مؤثق دلیل پیش کی ہے کہ انتظامی نوٹیفکیشن کے ذریعے زرعی انکم ٹیکس کے ٹیرف میں ردوبدل کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 77 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پٹیشن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آئینی تقاضوں کے مطابق، کسی بھی قسم کے ٹیکس کے نفاذ، خاتمے یا اس کی شرح میں تبدیلی کا اختیار صرف منتخب پارلیمان (قانون سازی) کے پاس ہے، اور انتظامیہ محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عوام پر نیا مالی بوجھ نہیں ڈال سکتی۔
عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے اس حالیہ نوٹیفکیشن کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کیا جائے اور صوبائی حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ مالیاتی امور میں آئین کی حدود کا احترام کرے۔
