سیالکوٹ (رپورٹ): مقامی محکمہ زراعت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ خالص اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے گھریلو سطح پر کاشتکاری (کچن گارڈننگ) کے رجحان کو اپنائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گھر کی سطح پر سبزیاں اگانا نہ صرف کم لاگت میں معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے، بلکہ یہ صحت مند جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی انتہائی سودمند ہے۔
محکمہ زراعت کے ذمہ داران کے مطابق، مارکیٹ میں دستیاب سبزیوں کے برعکس، گھروں میں پیدا کی جانے والی فصلیں کیمیائی اسپرے، نقصان دہ ادویات اور ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگی سے مکمل پاک ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے لیے بہترین ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بازار کی مہنگی اور غیر معیاری سبزیوں پر انحصار کم کریں اور اپنی روزمرہ کی غذائی ضروریات اپنے گھر سے ہی پوری کرنے کی کوشش کریں۔
جگہ کی کمی کا آسان حل:
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کچن گارڈننگ کے لیے بڑے صحن یا وسیع رقبے کی شرط لازمی نہیں ہے۔ اگر گھر میں کھلی جگہ میسر نہ ہو، تب بھی شہری اپنے گھر کی چھتوں یا بالکونی میں مٹی کے گملوں، لکڑی کے بکسوں، پرانی ٹرے اور پلاسٹک کے ڈبوں کا استعمال کر کے نہایت آسانی سے مختلف موسمی سبزیاں اگا سکتے ہیں۔
انتظامیہ نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے خاندان کی تندرستی اور معاشی بچت کے لیے گھریلو باغبانی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک صحت مند لائف اسٹائل کی جانب قدم بڑھائیں۔
